حدثنا ابو كامل الجحدري، حدثنا حماد وهو ابن زيد، قال: حدثنا عاصم، قال: كنا ناتي ابا عبد الرحمن السلمي، ونحن غلمة ايفاع، فكان يقول لنا لا تجالسوا القصاص، غير ابي الاحوص: وإياكم وشقيقا، قال: وكان شقيق هذا، يرى راي الخوارج، وليس بابي وائل،
عاصم سے روایت ہے کہ ہم ابوعبدالرحمٰن سلمی کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور اس زمانے میں ہم جوان لڑکے تھے (یعنی جوانی کے قریب) تو وہ ہم سے کہا کرتے: مت بیٹھا کرو قصہ خوانوں کے پاس سوائے ابولاحوص کے اور بچو تم شقیق سے اور یہ شقیق خارجیوں کا سا اعتقاد رکھتا تھا۔ یہ ابووائل نہیں ہے۔