مُقَدِّمَةٌ مقدمہ

حدثني الفضل بن سهل، قال: حدثنا يزيد بن هارون، قال: اخبرني خليفة بن موسى، قال: دخلت على غالب بن عبيد الله، فجعل يملي علي، حدثني مكحول، حدثني مكحول، فاخذه البول، فقام، فنظرت في الكراسة، فإذا فيها، حدثني ابان، عن انس وابان، عن فلان، فتركته، وقمت، قال: وسمعت الحسن بن علي الحلواني، يقول: رايت في كتاب عفان، حديث هشام ابي المقدام، حديث عمر بن عبد العزيز، قال هشام: حدثني جل، يقال له: يحيي بن فلان، عن محمد بن كعب، قال: قلت لعفان: إنهم يقولون هشام سمعه من محمد بن كعب، فقال: إنما ابتلي من قبل هذا الحديث، كان يقول: حدثني يحيي، عن محمد، ثم ادعى بعد، انه سمعه من محمد

‏‏‏‏ خلیفہ بن موسیٰ نے کہا: میں غالب بن عبیداللہ کے پاس گیا۔ وہ مجھ کو لکھوانے لگا، حدیث بیان کی مجھ سے مکحول نے۔ اتنے میں اس کو پیشاب آ گیا۔ وہ پیشاب کرنے گیا۔ میں نے اس کی کتاب کو دیکھا تو اس میں یوں لکھا تھا، حدیث بیان کی مجھ سے ابان نے انس سے اور ابان نے فلاں سے، یہ دیکھ کر میں نے اس سے روایت کرنا چھوڑ گیا اور اٹھ کر چلا گیا۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: سنا میں نے حسن بن علی حلوانی سے، وہ کہتے تھے میں نے عفان کی کتاب میں ہشام ابوالمقدام کی حدیث دیکھی جو عمر بن عبدالعزیز سے مروی ہے۔ ہشام نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا جس کا نام یحییٰ تھا فلاں کا بیٹا، اس نے محمد بن کعب سے سنا۔ میں نے عفان سے کہا لوگ کہتے ہیں ہشام نے اس حدیث کو خود محمد بن کعب سے سنا ہے عفان نے کہا: ہشام اسی حدیث کی وجہ سے آفت میں پڑ گیا پہلے کہتا مجھ سے حدیث بیان کی یحییٰ نے، اس نے سنا محمد سے۔ پھر کہنے لگا: میں نے خود سنا محمد سے۔

صحيح مسلم # 41
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp