مُقَدِّمَةٌ مقدمہ

وحدثني محمد بن ابي عتاب، قال: حدثني عفان، عن محمد بن يحيى بن سعيد القطان، عن ابيه، قال: لم نر الصالحين في شيء، اكذب منهم في الحديث، قال ابن ابي عتاب: فلقيت انا محمد بن يحيى بن سعيد القطان، فسالته عنه، فقال عن ابيه: لم تر اهل الخير في شيء، اكذب منهم في الحديث، قال مسلم: يقول: يجري الكذب على لسانهم، ولا يتعمدون الكذب

‏‏‏‏ محمد بن یحییٰ بن سعید قطان نے اپنے باپ سے سنا (یحییٰ بن سعید قطان سے جو حدیث کے بڑے امام تھے) وہ کہتے تھے: ہم نے نیک آدمیوں کو (یعنی درویشوں اور صوفیوں کو) اتنا جھوٹا کسی چیز میں نہیں دیکھا جتنا جھوٹا حدیث کی روایت کرنے میں دیکھا۔ ابن ابی عتاب نے کہا: میں محمد بن یحییٰ سے ملا اور ان سے یہ بات پوچھی۔ انہوں نے اپنے باپ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: تو نیک لوگوں کو اتنا جھوٹا کسی بات میں نہ پائے گا جتنا حدیث روایت کرنے میں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کی تاویل یہ کى ہے کہ جھوٹی حدیث ان کی زبان سے نکل جاتی ہے لیکن وہ قصداً جھوٹ نہیں بولتے۔

صحيح مسلم # 40
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp