مُقَدِّمَةٌ مقدمہ

وحدثني محمد بن عبد الله بن قهزاذ من اهل مرو، قال: اخبرني علي بن حسين بن واقد، قال: قال عبد الله بن المبارك: قلت لسفيان الثوري: إن عباد بن كثير، من تعرف حاله، وإذا حدث، جاء بامر عظيم، فترى ان اقول للناس: لا تاخذوا عنه؟ قال سفيان: بلى، قال عبد الله: فكنت إذا كنت في مجلس، ذكر فيه عباد، اثنيت عليه في دينه، واقول: لا تاخذوا عنه وقال محمد: حدثنا عبد الله بن عثمان، قال: قال ابي: قال عبد الله بن المبارك: انتهيت إلى شعبة، فقال: هذا عباد بن كثير فاحذروه

‏‏‏‏ عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں نے سفیان ثوری سے پوچھا: تم جانتے ہو عباد بن کثیر کا حال جب حدیث بیان کرتا ہے تو ایک بلا لاتا ہے تو تمہاری کیا رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دوں نہ روایت کرو اس سے۔ سفیان نے کہا: ہاں کہہ دو۔ عبداللہ نے کہا: پھر جس مجلس میں میں ہوتا اور عباد بن کثیر کا ذکر آتا تو میں اس کی دینداری کی تعریف کرتا لیکن کہہ دیتا کہ مت روایت کرو حدیث کو۔ عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں شعبہ کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا: یہ عباد بن کثیر ہے اس سے بچو (یعنی اس سے روایت کرنے میں)۔

صحيح مسلم # 38
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp