وحدثنا عمرو بن علي ابو حفص، قال: سمعت يحيى بن سعيد، قال: سالت سفيان الثوري، وشعبة، ومالكا، وابن عيينة، عن الرجل، لا يكون ثبتا في الحديث، فياتيني الرجل فيسالني عنه، قالوا: اخبر عنه، انه ليس بثبت
یحییٰ بن سعید نے کہا: میں نے سفیان ثوری اور شعبہ اور مالک اور ابن عینیہ سے پوچھا (جو حدیث کے بڑے بڑے امام تھے) کہ اگر ایک شخص معتبر نہ ہو حدیث کی روایت میں اور کوئی اس کا حال مجھ سے پوچھے (تو میں اس کا عیب بیان کر دوں یا چھپاوں؟) ان سب نے کہا: بیان کر دے کہ وہ شخص معتبر نہیں (اور اس کے بیان کرنے میں غیبت کا گناہ نہیں بلکہ اجر ہو گا، کیونکہ نیت بخیر ہے، دین کی حفاظت منظور ہے نہ کے توہین اس اس شخص کی)۔