مُقَدِّمَةٌ مقدمہ

حدثنا ابو جعفر محمد بن الصباح، حدثنا إسماعيل بن زكرياء، عن عاصم الاحول، عن ابن سيرين، قال: لم يكونوا يسالون عن الإسناد، فلما وقعت الفتنة، قالوا: سموا لنا رجالكم، فينظر إلى اهل السنة، فيؤخذ حديثهم، وينظر إلى اهل البدع، فلا يؤخذ حديثهم

‏‏‏‏ ابن سیرین نے کہا: پہلے زمانے میں کوئی حدیث بیان کرتا تو اس سے سند نہ پوچھتے۔ پھر جب فتنہ پھیلا (یعنی گمراہی شروع ہوئی اور بدعتیں روافض اور خوارج اور مرجیہ اور قدریہ کی شائع ہوئیں) تو لوگوں نے کہا: اپنی اپنی سند بیان کرو۔ پھر دیکھا جائے گا اگر روایت کرنے والے اہل سنت ہیں تو قبول کی جائے گی روایت ان کی اور جو بدعتی ہیں تو نہ قبول کریں گے روایت ان کی۔

صحيح مسلم # 27
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp