حدثنا عمرو الناقد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن حجير، عن طاوس، قال: " اتي ابن عباس بكتاب، فيه قضاء علي رضي الله عنه، محاه إلا قدر، واشار سفيان بن عيينة بذراعه
طاؤس سے روایت ہے کہ سيدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سيدنا علی رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کی کتاب آئی۔ انہوں نے سب کو مٹا دیا مگر ایک ہاتھ کے برابر رہنے دیا (جو فیصلہ صحیح تھا اس لیے کہ ان کو معلوم ہوا کہ روایت ان فیصلوں کی ٹھیک نہیں)۔