حدثنا إسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، انه اخبره، ان ابا سعيد الخدري رضي الله عنه، قال له:" إني اراك تحب الغنم والبادية، فإذا كنت في غنمك او باديتك، فاذنت للصلاة، فارفع صوتك بالنداء فإنه لا يسمع مدى صوت المؤذن جن ولا إنس ولا شيء إلا شهد له يوم القيامة، قال ابو سعيد: سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم مجھ سے امام مالک نے بیان کا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ان سے کہا میرا خیال ہے کہ تم بکریوں کو اور جنگل کو پسند کرتے ہو۔ پس جب تم اپنی بکریوں میں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو بلند آواز کے ساتھ دو کیونکہ مؤذن کی آواز جہاں تک بھی پہنچے گی اور اسے جن و انس اور دوسری جو چیزیں بھی سنیں گی وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔