كِتَاب التَّوْحِيدِ کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں

حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، اخبرني سالم، عن ابن عمر رضي الله عنهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" إنما بقاؤكم فيمن سلف من الامم كما بين صلاة العصر إلى غروب الشمس اوتي اهل التوراة التوراة، فعملوا بها حتى انتصف النهار ثم عجزوا، فاعطوا قيراطا قيراطا، ثم اوتي اهل الإنجيل الإنجيل، فعملوا به حتى صليت العصر، ثم عجزوا فاعطوا قيراطا قيراطا، ثم اوتيتم القرآن فعملتم به حتى غربت الشمس، فاعطيتم قيراطين قيراطين، فقال اهل الكتاب: هؤلاء اقل منا عملا واكثر اجرا، قال الله: هل ظلمتكم من حقكم شيئا؟، قالوا: لا، قال: فهو فضلي اوتيه من اشاء".

ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گذشتہ امتوں کے مقابلہ میں تمہارا وجود ایسا ہے جیسے عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت، اہل توریت کو توریت دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دن آدھا ہو گیا اور وہ عاجز ہو گئے۔ پھر انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، انہیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہو گیا، تمہیں دو دو قیراط دئیے گئے، اس پر کتاب نے کہا کہ یہ ہم سے عمل میں کم ہیں اور اجر میں زیادہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تمہارا حق دینے میں کوئی ظلم کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں دوں۔

صحيح البخاري # 7533
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp