كِتَاب التَّوْحِيدِ کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں

حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان عبد الله بن عباس، قال:" يا معشر المسلمين، كيف تسالون اهل الكتاب عن شيء؟ وكتابكم الذي انزل الله على نبيكم صلى الله عليه وسلم احدث الاخبار بالله محضا لم يشب، وقد حدثكم الله ان اهل الكتاب قد بدلوا من كتب الله وغيروا، فكتبوا بايديهم الكتب، قالوا: هو من عند الله ليشتروا بذلك ثمنا قليلا، اولا ينهاكم ما جاءكم من العلم عن مسالتهم فلا والله ما راينا رجلا منهم يسالكم عن الذي انزل عليكم".

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ میں کیوں پوچھتے ہو۔ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے وہ اللہ کے یہاں سے بالکل تازہ آئی ہے، خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں کو بدل ڈالا۔ وہ ہاتھ سے ایک کتاب لکھتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی پونچی حاصل کریں، تم کو جو اللہ نے قرآن و حدیث کا علم دیا ہے کیا وہ تم کو اس سے منع نہیں کرتا کہ تم دین کی باتیں اہل کتاب سے پوچھو۔ اللہ کی قسم! ہم تو ان کے کسی آدمی کو نہیں دیکھتے کہ جو کچھ تمہارے اوپر نازل ہوا ہے اس کے متعلق وہ تم سے پوچھتے ہوں۔

صحيح البخاري # 7523
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp