كِتَاب التَّوْحِيدِ کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں

حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثني سليمان، عن شريك بن عبد الله، انه قال: سمعت انس بن مالك، يقول:" ليلة اسري برسول الله صلى الله عليه وسلم من مسجد الكعبة انه جاءه ثلاثة نفر قبل ان يوحى إليه وهو نائم في المسجد الحرام، فقال: اولهم ايهم هو، فقال: اوسطهم هو خيرهم، فقال: آخرهم خذوا خيرهم، فكانت تلك الليلة فلم يرهم حتى اتوه ليلة اخرى فيما يرى قلبه، وتنام عينه، ولا ينام قلبه، وكذلك الانبياء تنام اعينهم ولا تنام قلوبهم، فلم يكلموه حتى احتملوه فوضعوه عند بئر زمزم، فتولاه منهم جبريل، فشق جبريل ما بين نحره إلى لبته حتى فرغ من صدره وجوفه، فغسله من ماء زمزم بيده حتى انقى جوفه، ثم اتي بطست من ذهب فيه تور من ذهب محشوا إيمانا وحكمة، فحشا به صدره ولغاديده يعني عروق حلقه ثم اطبقه، ثم عرج به إلى السماء الدنيا، فضرب بابا من ابوابها، فناداه اهل السماء من هذا، فقال جبريل: قالوا: ومن معك؟، قال: معي محمد، قال: وقد بعث؟، قال: نعم، قالوا: فمرحبا به واهلا، فيستبشر به اهل السماء لا يعلم اهل السماء بما يريد الله به في الارض حتى يعلمهم، فوجد في السماء الدنيا آدم، فقال له جبريل: هذا ابوك آدم فسلم عليه، فسلم عليه ورد عليه آدم، وقال: مرحبا واهلا بابني نعم الابن انت فإذا هو في السماء الدنيا بنهرين يطردان، فقال: ما هذان النهران يا جبريل؟، قال: هذا النيل والفرات عنصرهما، ثم مضى به في السماء، فإذا هو بنهر آخر عليه قصر من لؤلؤ وزبرجد، فضرب يده، فإذا هو مسك اذفر، قال: ما هذا يا جبريل؟، قال: هذا الكوثر الذي خبا لك ربك، ثم عرج به إلى السماء الثانية، فقالت الملائكة له: مثل ما قالت له الاولى من هذا قال جبريل: قالوا ومن معك؟، قال محمد صلى الله عليه وسلم، قالوا: وقد بعث إليه؟، قال: نعم، قالوا: مرحبا به واهلا، ثم عرج به إلى السماء الثالثة، وقالوا له: مثل ما قالت الاولى والثانية، ثم عرج به إلى الرابعة، فقالوا له: مثل ذلك، ثم عرج به إلى السماء الخامسة، فقالوا: مثل ذلك، ثم عرج به إلى السماء السادسة، فقالوا له: مثل ذلك، ثم عرج به إلى السماء السابعة، فقالوا له: مثل ذلك كل سماء فيها انبياء قد سماهم، فاوعيت منهم إدريس في الثانية، وهارون في الرابعة، وآخر في الخامسة، لم احفظ اسمه، وإبراهيم في السادسة، وموسى في السابعة، بتفضيل كلام الله، فقال موسى: رب لم اظن ان يرفع علي احد، ثم علا به فوق ذلك بما لا يعلمه إلا الله، حتى جاء سدرة المنتهى، ودنا للجبار رب العزة، فتدلى، حتى كان منه قاب قوسين او ادنى، فاوحى الله فيما اوحى إليه خمسين صلاة على امتك كل يوم وليلة، ثم هبط حتى بلغ موسى، فاحتبسه موسى، فقال يا محمد: ماذا عهد إليك ربك، قال: عهد إلي خمسين صلاة كل يوم وليلة، قال: إن امتك لا تستطيع ذلك فارجع، فليخفف عنك ربك وعنهم، فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى جبريل كانه يستشيره في ذلك، فاشار إليه جبريل، ان نعم إن شئت فعلا به إلى الجبار، فقال وهو مكانه:" يا رب، خفف عنا فإن امتي لا تستطيع هذا فوضع عنه عشر صلوات، ثم رجع إلى موسى، فاحتبسه فلم يزل يردده موسى إلى ربه حتى صارت إلى خمس صلوات، ثم احتبسه موسى عند الخمس، فقال: يا محمد، والله لقد راودت بني إسرائيل قومي على ادنى من هذا، فضعفوا، فتركوه، فامتك اضعف اجسادا وقلوبا وابدانا وابصارا واسماعا، فارجع، فليخفف عنك ربك كل ذلك يلتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى جبريل ليشير عليه ولا يكره ذلك جبريل، فرفعه عند الخامسة، فقال: يا رب، إن امتي ضعفاء اجسادهم وقلوبهم واسماعهم وابصارهم وابدانهم، فخفف عنا، فقال الجبار: يا محمد، قال: لبيك وسعديك، قال: إنه لا يبدل القول لدي كما فرضته عليك في ام الكتاب، قال: فكل حسنة بعشر امثالها فهي خمسون في ام الكتاب وهي خمس عليك، فرجع إلى موسى، فقال: كيف فعلت؟، فقال: خفف عنا اعطانا بكل حسنة عشر امثالها، قال موسى: قد والله راودت بني إسرائيل على ادنى من ذلك، فتركوه ارجع إلى ربك فليخفف عنك ايضا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا موسى، قد والله استحييت من ربي مما اختلفت إليه، قال: فاهبط باسم الله، قال: واستيقظ وهو في مسجد الحرام".

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے وہ واقعہ بیان کیا جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کعبہ سے معراج کے لیے لے جایا گیا کہ وحی آنے سے پہلے آپ کے پاس فرشتے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ ان میں سب سے بہتر ہیں تیسرے نے کہا کہ ان میں جو سب سے بہتر ہیں انہیں لے لو۔ اس رات کو بس اتنا ہی واقعہ پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد انہیں نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ وہ دوسری رات آئے جب کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔ لیکن دل نہیں سو رہا تھا۔ انبیاء کا یہی حال ہوتا ہے۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے بات نہیں کی۔ بلکہ آپ کو اٹھا کر زمزم کے کنویں کے پاس لائے۔ یہاں جبرائیل علیہ السلام نے آپ کا کام سنبھالا اور آپ کے گلے سے دل کے نیچے تک سینہ چاک کیا اور سینے اور پیٹ کو پاک کر کے زمزم کے پانی سے اسے اپنے ہاتھ سے دھویا یہاں تک کہ آپ کا پیٹ صاف ہو گیا۔ پھر آپ کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک برتن ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ اس سے آپ کے سینے اور حلق کی رگوں کو سیا اور اسے برابر کر دیا۔ پھر آپ کو لے کر آسمان دنیا پر چڑھے اور اس کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر دستک دی۔ آسمان والوں نے ان سے پوچھا آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبرائیل انہوں نے پوچھا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ جواب دیا کہ میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ آسمان والوں نے کہا خوب اچھے آئے اور اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔ آسمان والے اس سے خوش ہوئے۔ ان میں سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ زمین میں کیا کرنا چاہتا ہے جب تک وہ انہیں بتا نہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان دنیا پر آدم علیہ السلام کو پایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ یہ آپ کے بزرگ ترین دادا آدم ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔ آدم علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا۔ کہا کہ خوب اچھے آئے اور اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔ مبارک ہو اپنے بیٹے کو، آپ کیا ہی اچھے بیٹے ہیں۔ آپ نے آسمان دنیا میں دو نہریں دیکھیں جو بہہ رہی تھیں۔ پوچھا اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ نیل اور فرات کا منبع ہے۔ پھر آپ آسمان پر اور چلے تو دیکھا کہ ایک دوسری نہر ہے جس کے اوپر موتی اور زبرجد کا محل ہے۔ اس پر اپنا ہاتھ مارا تو وہ مشک ہے۔ پوچھا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ جواب دیا کہ یہ کوثر ہے جسے اللہ نے آپ کے لیے محفوظ رکھا ہے۔ پھر آپ دوسرے آسمان پر چڑھے۔ فرشتوں نے یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے آسمان پر کیا تھا۔ کون ہیں؟ کہا: جبرائیل۔ پوچھا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ فرشتے بولے انہیں مرحبا اور بشارت ہو۔ پھر آپ کو لے کر تیسرے آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے اور دوسرے آسمان پر کیا تھا۔ پھر چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر پانچویں آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا پھر چھٹے آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر آپ کو لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ ہر آسمان پر انبیاء ہیں جن کے نام آپ نے لیے۔ مجھے یہ یاد ہے کہ ادریس علیہ السلام دوسرے آسمان پر، ہارون علیہ السلام چوتھے آسمان پر، اور دوسرے نبی پانچویں آسمان پر۔ جن کے نام مجھے یاد نہیں اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر اور موسیٰ علیہ السلام ساتویں آسمان پر۔ یہ انہیں اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی کی وجہ سے فضیلت ملی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میرے رب! میرا خیال نہیں تھا کہ کسی کو مجھ سے بڑھایا جائے گا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر اس سے بھی اوپر گئے جس کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں یہاں تک کہ آپ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے کر آئے اور رب العزت اللہ تبارک وتعالیٰ سے قریب ہوئے اور اتنے قریب جیسے کمان کے دونوں کنارے یا اس سے بھی قریب۔ پھر اللہ نے اور دوسری باتوں کے ساتھ آپ کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کی وحی کی۔ پھر آپ اترے اور جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور پوچھا: اے محمد! آپ کے رب نے آپ سے کیا عہد لیا ہے؟ فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے دن اور رات میں پچاس نمازوں کا عہد لیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں۔ واپس جائیے اور اپنی اور اپنی امت کی طرف سے کمی کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے بھی اشارہ کیا کہ ہاں اگر چاہیں تو بہتر ہے۔ چنانچہ آپ پھر انہیں لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہو کر عرض کیا: اے رب! ہم سے کمی کر دے کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دس نمازوں کی کمی کر دی۔ پھر آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو روکا۔ موسیٰ علیہ السلام آپ کو اسی طرح برابر اللہ رب العزت کے پاس واپس کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پانچ نمازیں ہو گئیں۔ پانچ نمازوں پر بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا اور کہا: اے محمد! میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کا تجربہ اس سے کم پر کیا ہے وہ ناتواں ثابت ہوئے اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ آپ کی امت تو جسم، دل، بدن، نظر اور کان ہر اعتبار سے کمزور ہے، آپ واپس جائیے اور اللہ رب العزت اس میں بھی کمی کر دے گا۔ ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتے تھے تاکہ ان سے مشورہ لیں اور جبرائیل علیہ السلام اسے ناپسند نہیں کرتے تھے۔ جب وہ آپ کو پانچویں مرتبہ بھی لے گئے تو عرض کیا: اے میرے رب! میری امت جسم، دل، نگاہ اور بند ہر حیثیت سے کمزور ہے، پس ہم سے اور کمی کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمایا کہ وہ قول میرے یہاں بدلا نہیں جاتا جیسا کہ میں نے تم پر ام الکتاب میں فرض کیا ہے۔ اور فرمایا کہ ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے پس یہ ام الکتاب میں پچاس نمازیں ہیں لیکن تم پر فرض پانچ ہی ہیں۔ چنانچہ آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آئے اور انہوں نے پوچھا: کیا ہوا؟ آپ نے کہا کہ ہم سے یہ تخفیف کی کہ ہر نیکی کے بدلے دس کا ثواب ملے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں نے بنی اسرائیل کو اس سے کم پر آزمایا ہے اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ پس آپ واپس جائیے اور مزید کمی کرائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کہا: اے موسیٰ، واللہ! مجھے اپنے رب سے اب شرم آتی ہے کیونکہ باربار آ جا چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پھر اللہ کا نام لے کر اتر جاؤ۔ پھر جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد الحرام میں تھے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام ہی میں تھے کہ جاگ اٹھے، جاگ اٹھنے سے یہ مراد ہے کہ وہ حالت معراج کی جاتی رہی اور آپ اپنی حالت میں آ گئے۔

صحيح البخاري # 7517
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp