كِتَاب التَّوْحِيدِ کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں

حدثنا عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا معتمر سمعت ابي، حدثنا قتادة، عن عقبة بن عبد الغافر، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم،" انه ذكر رجلا فيمن سلف او فيمن كان قبلكم، قال: كلمة يعني اعطاه الله مالا وولدا فلما حضرت الوفاة، قال لبنيه: اي اب كنت لكم؟، قالوا: خير اب، قال: فإنه لم يبتئر او لم يبتئز عند الله خيرا وإن يقدر الله عليه يعذبه، فانظروا إذا مت، فاحرقوني حتى إذا صرت فحما، فاسحقوني، او قال فاستحلوني فإذا كان يوم ريح عاصف فاذروني فيها، فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: فاخذ مواثيقهم على ذلك وربي، ففعلوا ثم اذروه في يوم عاصف، فقال الله عز وجل: كن فإذا هو رجل قائم، قال الله: اي عبدي ما حملك على ان فعلت ما فعلت، قال: مخافتك او فرق منك، قال: فما تلافاه ان رحمه عندها، وقال مرة اخرى: فما تلافاه غيرها"، فحدثت به ابا عثمان، فقال: سمعت هذا من سلمان غير انه زاد فيه اذروني في البحر او كما حدث، حدثنا موسى، حدثنا معتمر، وقال: لم يبتئر، وقال خليفة: حدثنا معتمر وقال لم يبتئز، فسره قتادة لم يدخر.

ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن عبدالغافر نے اور ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں میں سے ایک شخص کا ذکر کیا۔ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ فرمایا یعنی اللہ نے اسے مال و اولاد سب کچھ دیا تھا۔ جب اس کے مرنے کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا کہ میں تمہارے لیے کیسا باپ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین باپ، اس پر اس نے کہا کہ لیکن تمہارے باپ نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی نہیں بھیجی ہے اور اگر کہیں اللہ نے مجھے پکڑ پایا تو سخت عذاب کرے گا تو دیکھو جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، یہاں تک کہ جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو اسے خوب پیس لینا اور جس دن تیز آندھی آئے اس میں میری یہ راکھ اڑا دینا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر اس نے اپنے بیٹوں سے پختہ وعدہ لیا اور اللہ کی قسم کہ ان کے لڑکوں نے ایسا ہی کیا، جلا کر راکھ کر ڈالا، پھر انہوں نے اس کی راکھ کو تیز ہوا کے دن اڑا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے «كن‏» کا لفظ فرمایا کہ ہو جا تو وہ فوراً ایک مرد بن گیا جو کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے میرے بندے! تجھے کس بات نے اس پر آمادہ کیا کہ تو نے یہ کام کرایا۔ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ اس پر رحم کیا۔ پھر میں نے یہ بات ابوعثمان نہدی سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سلیمان فارسی سے سنا، البتہ انہوں نے یہ لفظ زیادہ کئے کہ «أذروني في البحر‏.‏» یعنی میری راکھ کو دریا میں ڈال دینا یا کچھ ایسا ہی بیان کیا۔ ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا اور اس نے «لم يبتئر‏.‏» کے الفاظ کہے اور خلیفہ بن خیاط (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا پھر یہی حدیث نقل کی۔ اس میں «لم يبتئر‏.‏» ہے۔ قتادہ نے اس کے معنی یہ کئے ہیں یعنی کوئی نیکی آخرت کے لیے ذخیرہ نہیں کی۔

صحيح البخاري # 7508
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp