حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا عبد الله بن عمر النميري، حدثنا يونس بن يزيد الايلي، قال: سمعت الزهري، قال: سمعت عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله بن عبد الله، عن حديث عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، حين قال لها اهل الإفك ما قالوا، فبراها الله مما قالوا وكل حدثني، طائفة من الحديث الذي حدثني عن عائشة، قالت:" ولكني والله ما كنت اظن ان الله ينزل في براءتي وحيا يتلى، ولشاني في نفسي كان احقر من ان يتكلم الله في بامر يتلى، ولكني كنت ارجو ان يرى رسول الله صلى الله عليه وسلم في النوم رؤيا يبرئني الله بها، فانزل الله تعالى: إن الذين جاءوا بالإفك سورة النور آية 11 العشر الآيات".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ نے اس سے انہیں بَری قرار دیا تھا۔ ان سب نے بیان کیا اور ہر ایک نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کی ہوئی بات کا ایک حصہ بیان کیا۔ ام المؤمنین نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ میری پاکی بیان کرنے کے لیے وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہو گی۔ میرے دل میں میرا درجہ اس سے بہت کم تھا کہ اللہ میرے بارے میں (قرآن مجید میں) وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہو گی، البتہ مجھے امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعہ اللہ میری برات کر دے گا، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیات «إن الذين جاءوا بالإفك» نازل کی ہیں، دس آیات۔