كِتَاب التَّوْحِيدِ کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں

حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابو حفص عمرو، حدثنا الاوزاعي، حدثني ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابن عباس رضي الله عنهما، انه تمارى هو والحر بن قيس بن حصن الفزاري في صاحب موسى اهو خضر، فمر بهما ابي بن كعب الانصاري، فدعاه ابن عباس، فقال: إني تماريت انا وصاحبي هذا في صاحب موسى الذي سال السبيل إلى لقيه هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر شانه؟، قال: نعم، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" بينا موسى في ملإ من بني إسرائيل إذ جاءه رجل، فقال: هل تعلم احدا اعلم منك؟، فقال موسى: لا، فاوحي إلى موسى بلى عبدنا خضر، فسال موسى السبيل إلى لقيه، فجعل الله له الحوت آية، وقيل له: إذا فقدت الحوت، فارجع فإنك ستلقاه، فكان موسى يتبع اثر الحوت في البحر، فقال فتى موسى لموسى: ارايت إذ اوينا إلى الصخرة فإني نسيت الحوت وما انسانيه إلا الشيطان ان اذكره؟ قال موسى: ذلك ما كنا نبغي، فارتدا على آثارهما قصصا فوجدا خضرا وكان من شانهما ما قص الله".

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحفص عمرو نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ بن مسعود نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ اور حر بن قیس بن حصین الفزاری، موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے کہ کیا وہ خضر علیہ السلام ہی تھے۔ اتنے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور ان سے کہا کہ میں اور میرا یہ ساتھی اس بارے میں شک میں ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے وہ صاحب کون تھے جن سے ملاقات کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں کوئی حدیث سنی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک مجمع میں تھے کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ نہیں۔ چنانچہ آپ پر وحی نازل ہوئی کہ کیوں نہیں ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملاقات کا راستہ معلوم کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مچھلی کو نشان قرار دیا اور آپ سے کہا گیا کہ جب تم مچھلی کو گم پاؤ تو لوٹ جانا کہ وہیں ان سے ملاقات ہو گی۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام مچھلی کا نشان دریا میں ڈھونڈنے لگے اور آپ کے ساتھی نے آپ کو بتایا کہ آپ کو معلوم ہے۔ جب ہم نے چٹان پر ڈیرہ ڈالا تھا تو وہیں میں مچھلی بھول گیا اور مجھے شیطان نے اسے بھلا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ جگہ وہی ہے جس کی تلاش میں ہم سرگرداں ہیں پس وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے اور انہوں نے خضر علیہ السلام کو پا لیا ان ہی دونوں کا یہ قصہ ہے جو اللہ نے بیان فرمایا۔

صحيح البخاري # 7478
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp