كِتَاب التَّوْحِيدِ کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں

حدثنا محمد، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" دخل على اعرابي يعوده، فقال: لا باس عليك طهور إن شاء الله، قال: قال الاعرابي: طهور، بل هي حمى تفور على شيخ كبير تزيره القبور، قال النبي صلى الله عليه وسلم: فنعم إذا".

ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس سے کہا کہ کوئی مضائقہ نہیں یہ (بیماری) تمہارے لیے پاکی کا باعث ہے، اس پر اس نے کہا کہ جناب یہ وہ بخار ہے جو ایک بڈھے پر جوش مار رہا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کے رہے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یونہی ہو گا۔

صحيح البخاري # 7470
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp