حدثنا آدم، حدثنا شعبة، حدثنا الاعمش، سمعت زيد بن وهب، سمعت عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق:" ان خلق احدكم يجمع في بطن امه اربعين يوما، او اربعين ليلة، ثم يكون علقة مثله، ثم يكون مضغة مثله، ثم يبعث إليه الملك، فيؤذن باربع كلمات، فيكتب رزقه، واجله، وعمله، وشقي ام سعيد، ثم ينفخ فيه الروح فإن احدكم ليعمل بعمل اهل الجنة حتى لا يكون بينها وبينه إلا ذراع، فيسبق عليه الكتاب، فيعمل بعمل اهل النار، فيدخل النار، وإن احدكم ليعمل بعمل اهل النار حتى ما يكون بينها وبينه إلا ذراع، فيسبق عليه الكتاب، فيعمل عمل اهل الجنة، فيدخلها".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا زید بن وہب سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جو صادق و مصدق ہیں کہ انسان کا نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن اور راتوں تک جمع رہتا ہے پھر وہ خون کی پھٹکی بن جاتا ہے، پھر وہ گوشت کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کی روزی، اس کی موت، اس کا عمل اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت لکھ لیتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے اور تم میں سے ایک شخص جنت والوں کے سے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص دوزخ والوں کے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر غالب آتی ہے اور جنت والوں کے کام کرنے لگتا ہے، پھر جنت میں داخل ہوتا ہے۔