وقال حجاج بن منهال، حدثنا همام بن يحيى، حدثنا قتادة، عن انس رضي الله عنه، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: يحبس المؤمنون يوم القيامة حتى يهموا بذلك، فيقولون: لو استشفعنا إلى ربنا فيريحنا من مكاننا، فياتون آدم، فيقولون انت آدم ابو الناس خلقك الله بيده واسكنك جنته واسجد لك ملائكته، وعلمك اسماء كل شيء لتشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا، قال: فيقول: لست هناكم، قال: ويذكر خطيئته التي اصاب اكله من الشجرة، وقد نهي عنها ولكن ائتوا نوحا اول نبي بعثه الله إلى اهل الارض، فياتون نوحا، فيقول: لست هناكم ويذكر خطيئته التي اصاب سؤاله ربه بغير علم ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن، قال: فياتون إبراهيم، فيقول: إني لست هناكم ويذكر ثلاث كلمات كذبهن ولكن ائتوا موسى عبدا آتاه الله التوراة وكلمه وقربه نجيا، قال: فياتون موسى، فيقول: إني لست هناكم ويذكر خطيئته التي اصاب قتله النفس ولكن ائتوا عيسى عبد الله ورسوله وروح الله وكلمته، قال: فياتون عيسى، فيقول: لست هناكم ولكن ائتوا محمدا صلى الله عليه وسلم عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تاخر، فياتوني، فاستاذن على ربي في داره، فيؤذن لي عليه فإذا رايته وقعت ساجدا، فيدعني ما شاء الله ان يدعني، فيقول: ارفع محمد، وقل: يسمع، واشفع تشفع، وسل تعط، قال: فارفع راسي فاثني على ربي بثناء وتحميد يعلمنيه ثم اشفع، فيحد لي حدا، فاخرج، فادخلهم الجنة، قال قتادة وسمعته ايضا، يقول: فاخرج، فاخرجهم من النار وادخلهم الجنة، ثم اعود الثانية، فاستاذن على ربي في داره فيؤذن لي عليه فإذا رايته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني، ثم يقول: ارفع محمد وقل يسمع، واشفع تشفع، وسل تعط، قال: فارفع راسي، فاثني على ربي بثناء وتحميد يعلمنيه، قال: ثم اشفع فيحد لي حدا، فاخرج فادخلهم الجنة، قال قتادة وسمعته، يقول: فاخرج فاخرجهم من النار وادخلهم الجنة، ثم اعود الثالثة، فاستاذن على ربي في داره، فيؤذن لي عليه، فإذا رايته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني، ثم يقول: ارفع محمد وقل يسمع، واشفع تشفع، وسل تعطه، قال: فارفع راسي، فاثني على ربي بثناء وتحميد يعلمنيه، قال: ثم اشفع فيحد لي حدا، فاخرج، فادخلهم الجنة، قال قتادة وقد سمعته، يقول: فاخرج، فاخرجهم من النار وادخلهم الجنة حتى ما يبقى في النار إلا من حبسه القرآن اي وجب عليه الخلود، قال: ثم تلا هذه الآية عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا سورة الإسراء آية 79، قال: وهذا المقام المحمود الذي وعده نبيكم صلى الله عليه وسلم".
اور حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے حمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ بن دعامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن مومنوں کو (گرم میدان میں) روک دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ غمگین ہو جائیں گے اور (صلاح کر کے) کہیں گے کہ کاش کوئی ہمارے رب سے ہماری شفاعت کرتا کہ ہمیں اس حالت سے نجات ملتی۔ چنانچہ وہ مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کو جنت میں مقام عطا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہماری شفاعت اپنے رب کے حضور میں کریں تاکہ ہمیں اس حالت سے نجات دے۔ بیان کیا کہ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو باوجود رکنے کے درخت کھا لینے کی وجہ سے ان سے ہوئی تھی اور کہیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔ چنانچہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں اور اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو بغیر علم کے اللہ رب العزت سے سوال کر کے (اپنے بیٹے کی بخشش کے لیے) انہوں نے کی تھی اور کہیں گے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں۔ بیان کیا کہ ہم سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہی عذر کریں گے کہ میں اس لائق نہیں اور وہ ان تین باتوں کو یاد کریں گے جن میں آپ نے بظاہر غلط بیانی کی تھی اور کہیں گے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توریت دی اور ان سے بات کی اور ان کو نزدیک کر کے ان سے سرگوشی کی۔ بیان کیا کہ پھر لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں اور وہ غلطی یاد کریں گے جو ایک شخص کو قتل کر کے انہوں نے کی تھی۔ (وہ کہیں گے) البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں اپنے رب سے اس کے در دولت یعنی عرش معلی پر آنے کے لیے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اس کی اجازت دی جائے گی پھر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے جب تک چاہے گا اسی حالت میں رہنے دے گا۔ پھر فرمائے گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، جو مانگو گے دیا جائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں شفاعت کروں گا۔ چنانچہ میرے لیے حد مقرر کی جائے گی اور میں اس کے مطابق لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پھر میں نکالوں گا اور جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر تیسری مرتبہ اپنے رب سے اس کے در دولت کے لیے اجازت چاہوں گا اور مجھے اس کی اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اللہ رب العزت کو دیکھتے ہی اس کے لیے سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے یوں ہی چھوڑے رکھے گا۔ پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا شفاعت کرو قبول کی جائے گی، مانگو دیا جائے گا۔ آپ نے بیان کیا کہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا بیان کیا کہ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گا اور میں اس کے مطابق جہنم سے لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ پھر میں لوگوں کو نکالوں گا اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، یہاں تک کہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روک رکھا ہو گا یعنی انہیں ہمیشہ ہی اس میں رہنا ہو گا (یعنی کفار و مشرکین) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”قریب ہے کہ آپ کا رب مقام محمود پر آپ کو بھیجے گا“ فرمایا کہ یہی وہ مقام محمود ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔