حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن ابي بردة، عن ابي بردة، عن ابي موسى الاشعري، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اشياء كرهها فلما اكثروا عليه المسالة غضب، وقال: سلوني، فقام رجل، فقال: يا رسول الله، من ابي؟، قال: ابوك حذافة، ثم قام آخر، فقال: يا رسول الله، من ابي؟، فقال: ابوك سالم مولى شيبة، فلما راى عمر ما بوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم من الغضب، قال: إنا نتوب إلى الله عز وجل".
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ حماد بن اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن ابی بردہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھا گیا جنہیں آپ نے ناپسند کیا جب لوگوں نے بہت زیادہ پوچھنا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا: پوچھو! اس پر ایک صحابی کھڑا ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! میرے والد کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے والد حذافہ ہیں۔ پھر دوسرا صحابی کھڑا ہوا اور پوچھا میرے والد کون ہیں؟ فرمایا کہ تمہارے والد شیبہ کے مولیٰ سالم ہیں۔ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر غصہ کے آثار محسوس کئے تو عرض کیا ہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آپ کو غصہ دلانے سے توبہ کرتے ہیں۔