حدثنا يحيى بن بكير، حدثني الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، انه قال: اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن عباس، اخبره، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" بعث بكتابه إلى كسرى، فامره ان يدفعه إلى عظيم البحرين يدفعه عظيم البحرين إلى كسرى، فلما قراه كسرى مزقه، فحسبت ان ابن المسيب، قال: فدعا عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يمزقوا كل ممزق.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ پرویز شاہ ایران کو خط بھیجا اور قاصد عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ خط بحرین کے گورنر منذر بن ساوی کے حوالہ کریں وہ اسے کسریٰ تک پہنچائے گا۔ جب کسریٰ نے وہ خط پڑھا تو اسے پھاڑ دیا۔ مجھے یاد ہے کہ سعید بن المسیب نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بددعا دی کہ اللہ انہیں بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔