كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ کتاب: خبر واحد کے بیان میں

حدثنا إسماعيل، حدثني مالك، عن ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" انصرف من اثنتين، فقال له ذو اليدين: اقصرت الصلاة يا رسول الله ام نسيت؟، فقال: اصدق ذو اليدين، فقال الناس: نعم، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم: فصلى ركعتين اخريين، ثم سلم، ثم كبر، ثم سجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع، ثم كبر فسجد مثل سجوده، ثم رفع".

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے مالک نے بیان کیا ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعت پر (مغرب یا عشاء کی نماز میں) نماز ختم کر دی تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، تکبیر کی اور سجدہ کیا (نماز کے عام) سجدے جیسا یا اس سے طویل، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، پھر تکبیر کہی اور نماز کے سجدے جیسا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا۔

صحيح البخاري # 7250
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp