كِتَاب التَّمَنِّي کتاب: نیک ترین آرزؤں کے جائز ہونے کے بیان میں

حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، وقال الليث، حدثني عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، ان سعيد بن المسيب اخبره، ان ابا هريرة، قال:" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوصال، قالوا: فإنك تواصل، قال: ايكم مثلي؟، إني ابيت يطعمني ربي ويسقين، فلما ابوا ان ينتهوا، واصل بهم يوما، ثم يوما، ثم راوا الهلال، فقال: لو تاخر لزدتكم كالمنكل لهم".

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم کو زہری نے خبر دی اور لیث نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب (زہری) نے، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع کیا تو صحابہ نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کون مجھ جیسا ہے، میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے لیکن جب لوگ نہ مانے تو آپ نے ایک دن کے ساتھ دوسرا دن ملا کر (وصال کا) روزہ رکھا، پھر لوگوں نے (عید کا) چاند دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ ہوتا تو میں اور وصال کرتا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنبیہ کرنے کے لیے ایسا فرمایا۔

صحيح البخاري # 7242
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp