كِتَاب الْأَحْكَامِ کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں

حدثنا عمرو بن علي، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حميد، عن انس رضي الله عنه،" خرج النبي صلى الله عليه وسلم في غداة باردة والمهاجرون، والانصار يحفرون الخندق، فقال:" اللهم إن الخير خير الآخره فاغفر للانصار والمهاجره، فاجابوا نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما بقينا ابدا.

ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی میں صبح کے وقت باہر نکلے اور مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! خیر تو آخرت ہی کی خیر ہے۔ پس انصار و مہاجرین کی مغفرت کر دے۔ اس کا جواب لوگوں نے دیا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے جب تک وہ زندہ ہیں۔

صحيح البخاري # 7201
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp