حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الاويسي، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين، ان النبي صلى الله عليه وسلم، اتته صفية بنت حيي، فلما رجعت انطلق معها، فمر به رجلان من الانصار، فدعاهما، فقال: إنما هي صفية، قالا: سبحان الله، قال:" إن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم"، رواه شعيب، وابن مسافر، وابن ابي عتيق، وإسحاق بن يحيى، عن الزهري، عن علي يعني ابن حسين، عن صفية، عن النبي صلى الله عليه وسلم.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے جناب زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ نے کہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا (رات کے وقت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے) جب وہ واپس آنے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ آئے۔ اس وقت دو انصاری صحابی ادھر سے گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ ہیں۔ ان دونوں انصاریوں نے کہا، سبحان اللہ (کیا ہم آپ پر شبہ کریں گے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے۔ اس کی روایت شعیب، ابن مسافر، ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے کی ہے، ان سے علی بن حسین نے اور ان سے صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی واقعہ نقل کیا ہے۔