حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، عن علي رضي الله عنه، قال:" بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية، وامر عليهم رجلا من الانصار وامرهم ان يطيعوه، فغضب عليهم، وقال: اليس قد امر النبي صلى الله عليه وسلم ان تطيعوني، قالوا: بلى، قال: قد عزمت عليكم لما جمعتم حطبا واوقدتم نارا ثم دخلتم فيها، فجمعوا حطبا فاوقدوا نارا، فلما هموا بالدخول فقام ينظر بعضهم إلى بعض، قال بعضهم: إنما تبعنا النبي صلى الله عليه وسلم فرارا من النار افندخلها، فبينما هم كذلك، إذ خمدت النار وسكن غضبه، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: لو دخلوها ما خرجوا منها ابدا، إنما الطاعة في المعروف".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر بنایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں۔ پھر امیر فوج کے لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ضرور دیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑی جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو۔ لوگوں نے لکڑی جمع کی اور آگ جلائی، جب کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو لوگ دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری آگ سے بچنے کے لیے کی تھی، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں۔ اسی دوران میں آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے۔ اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔