حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن عوف، عن ابي المنهال، قال: لما كان ابن زياد ومروان بالشام، ووثب ابن الزبير بمكة، ووثب القراء بالبصرة، فانطلقت مع ابي إلى ابي برزة الاسلمي حتى دخلنا عليه في داره وهو جالس في ظل علية له من قصب، فجلسنا إليه، فانشا ابي يستطعمه الحديث، فقال: يا ابا برزة، الا ترى ما وقع فيه الناس، فاول شيء سمعته تكلم به:" إني احتسبت عند الله اني اصبحت ساخطا على احياء قريش، إنكم يا معشر العرب كنتم على الحال الذي علمتم من الذلة والقلة والضلالة، وإن الله انقذكم بالإسلام وبمحمد صلى الله عليه وسلم حتى بلغ بكم ما ترون وهذه الدنيا التي افسدت بينكم، إن ذاك الذي بالشام والله إن يقاتل إلا على الدنيا، وإن هؤلاء الذين بين اظهركم والله إن يقاتلون إلا على الدنيا، وإن ذاك الذي بمكة والله إن يقاتل إلا على الدنيا".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شہاب نے بیان کیا، ان سے جوف نے بیان کیا، ان سے ابومنہال نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زیاد اور مروان شام میں تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اور خوارج نے بصرہ میں قبضہ کر لیا تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ جب ہم ان کے گھر میں ایک کمرہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے جو بانس کا بنا ہوا تھا، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے اور میرے والد ان سے بات کرنے لگے اور کہا: اے ابوبرزہ! آپ نہیں دیکھتے لوگ کن باتوں میں آفت اور اختلاف میں الجھ گئے ہیں۔ میں نے ان کی زبان سے سب سے پہلی بات یہ سنی کہ میں جو ان قریش کے لوگوں سے ناراض ہوں تو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے، اللہ میرا اجر دینے والا ہے۔ عرب کے لوگو! تم جانتے ہو پہلے تمہارا کیا حال تھا تم گمراہی میں گرفتار تھے، اللہ نے اسلام کے ذریعہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تم کو اس بری حالت سے نجات دی۔ یہاں تک کہ تم اس رتبہ کو پہنچے۔ (دنیا کے حاکم اور سردار بن گئے) پھر اسی دنیا نے تم کو خراب کر دیا۔ دیکھو! یہ شخص جو شام میں حاکم بن بیٹھا ہے یعنی مروان دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔ یہ لوگ جو تمہارے سامنے ہیں۔ (خوارج) واللہ! یہ لوگ صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں اور وہ جو مکہ میں ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، واللہ! وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔