حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا ازهر بن سعد، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال: ذكر النبي صلى الله عليه وسلم:"اللهم بارك لنا في شامنا، اللهم بارك لنا في يمننا، قالوا: يا رسول الله، وفي نجدنا؟، قال: اللهم بارك لنا في شامنا، اللهم بارك لنا في يمننا، قالوا: يا رسول الله، وفي نجدنا؟، فاظنه قال في الثالثة: هناك الزلازل والفتن، وبها يطلع قرن الشيطان".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! ہمارے ملک شام میں ہمیں برکت دے، ہمارے یمن میں ہمیں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں؟ میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ”وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہاں شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔“