كِتَاب الْفِتَنِ کتاب: فتنوں کے بیان میں

حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا قرة بن خالد، حدثنا ابن سيرين، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابي بكرة، وعن رجل آخر هو افضل في نفسي من عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابي بكرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" خطب الناس، فقال: الا تدرون اي يوم هذا؟، قالوا: الله ورسوله اعلم، قال: حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه، فقال: اليس بيوم النحر؟، قلنا: بلى يا رسول الله، قال: اي بلد هذا؟ اليست بالبلدة الحرام؟، قلنا: بلى يا رسول الله، قال: فإن دماءكم، واموالكم، واعراضكم، وابشاركم، عليكم حرام كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، الا هل بلغت؟، قلنا: نعم، قال: اللهم اشهد، فليبلغ الشاهد الغائب، فإنه رب مبلغ يبلغه لمن هو اوعى له فكان كذلك، قال: لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض، فلما كان يوم حرق ابن الحضرمي حين حرقه جارية بن قدامة، قال: اشرفوا على ابي بكرة، فقالوا: هذا ابو بكرة يراك، قال: عبد الرحمن فحدثتني امي، عن ابي بكرة، انه قال: لو دخلوا علي ما بهشت بقصبة".

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا اور ایک دوسرے شخص (حمید بن عبدالرحمٰن) سے بھی سنا جو میری نظر میں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے اچھے ہیں اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یوم النحر کو خطبہ دیا اور فرمایا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ بیان کیا کہ (اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے) ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن (یوم النحر) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ نے پھر پوچھا یہ کون سا شہر ہے؟ کیا یہ البلدہ (مکہ مکرمہ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزت اور تمہاری کھال تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! گواہ رہنا۔ پس میرا یہ پیغام موجود لوگ غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے پہنچانے والے اس پیغام کو اس تک پہنچائیں گے جو اس کو زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگو۔ پھر جب وہ دن آیا جب عبداللہ عمرو بن حضرمی کو جاریہ بن قدامہ نے ایک مکان میں گھیر کر جلا دیا تو جاریہ نے اپنے لشکر والوں سے کہا زرا ابوبکرہ کو تو جھانکو وہ کس خیال میں ہے۔ انہوں نے کہا یہ ابوبکرہ موجود ہیں تم کو دیکھ رہے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں مجھ سے میری والدہ ہالہ بنت غلیظ نے کہا کہ ابوبکرہ نے کہا اگر یہ لوگ (تین جاریہ کے لشکر والے) میرے گھر میں بھی گھس آئیں اور مجھ کو مارنے لگیں تو میں ان پر ایک بانس کی چھڑی بھی نہیں چلاؤں گا۔

صحيح البخاري # 7078
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp