حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري. ح وحدثنا إسماعيل، حدثني اخي، عن سليمان بن بلال، عن محمد بن ابي عتيق،عن ابن شهاب، عن هند بنت الحارث الفراسية، ان ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت:" استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فزعا، يقول: سبحان الله، ماذا انزل الله من الخزائن، وماذا انزل من الفتن، من يوقظ صواحب الحجرات، يريد ازواجه لكي يصلين، رب كاسية في الدنيا عارية في الآخرة".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن عقیق نے، ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ہند بنت الحارث الفراسیہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا خزانے نازل کئے ہیں اور کتنے فتنے اتارے ہیں ان حجرہ والیوں کو کوئی بیدار کیوں نہ کرے آپ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ بہت سے دنیا میں کپڑے باریک پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔