كِتَاب التَّعْبِيرِ کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں

حدثنا سعيد بن الربيع، حدثنا شعبة، عن عبد ربه بن سعيد، قال: سمعت ابا سلمة، يقول: لقد كنت ارى الرؤيا فتمرضني، حتى سمعت ابا قتادة يقول: وانا كنت لارى الرؤيا تمرضني، حتى سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول:" الرؤيا الحسنة من الله، فإذا راى احدكم ما يحب فلا يحدث به إلا من يحب، وإذا راى ما يكره، فليتعوذ بالله من شرها ومن شر الشيطان وليتفل ثلاثا ولا يحدث بها احدا، فإنها لن تضره".

ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدربہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں (برے) خواب دیکھتا تھا اور اس کی وجہ سے بیمار پڑ جاتا تھا۔ آخر میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی خواب دیکھتا اور میں بھی بیمار پڑ جاتا۔ آخر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھے خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین مرتبہ تھوتھو کر دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔

صحيح البخاري # 7044
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp