حدثنا سعيد بن عفير، حدثني الليث، قال: حدثني عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سعيد، ان ابا هريرة اخبره، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" بينا انا نائم رايتني على قليب وعليها دلو فنزعت منها ما شاء الله، ثم اخذها ابن ابي قحافة فنزع منها ذنوبا او ذنوبين، وفي نزعه ضعف، والله يغفر له، ثم استحالت غربا، فاخذها عمر بن الخطاب، فلم ار عبقريا من الناس ينزع نزع عمر بن الخطاب حتى ضرب الناس بعطن".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سعید نے خبر دی، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا۔ اس پر ایک ڈول تھا۔ جتنا اللہ نے چاہا میں نے اس میں سے پانی کھینچا، پھر اس ڈول کو ابن ابی قحافہ نے لے لیا اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچنے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے پھر وہ بڑا ڈول بن گیا اور اسے عمر بن خطاب نے اٹھا لیا۔ میں نے کسی ماہر کو عمر بن خطاب کی طرح کھینچتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کے لیے اونٹوں کے حوض بھر دئیے۔ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے اپنے تھانوں پر لے جا کر بیٹھا دیا۔“