كِتَاب الْحِيَلِ کتاب: شرعی حیلوں کے بیان میں

حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن إبراهيم بن ميسرة، عن عمرو بن الشريد، عن ابي رافع، ان سعدا ساومه بيتا باربع مائة مثقال، فقال:" لولا اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: الجار احق بصقبه"، لما اعطيتك، وقال بعض الناس: إن اشترى نصيب دار فاراد ان يبطل الشفعة، وهب لابنه الصغير، ولا يكون عليه يمين.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن شرید نے، ان سے ابورافع نے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے ایک گھر کی چار سو مثقال قیمت لگائی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ دیتا۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی گھر کا حصہ خریدا اور چاہا کہ اس کا حق شفہ باطل کر دے تو اسے اس گھر کو اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کر دینا چاہیے، اب نابالغ پر قسم بھی نہیں ہو گی۔

صحيح البخاري # 6978
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp