كِتَاب الْحِيَلِ کتاب: شرعی حیلوں کے بیان میں

حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن ذكوان، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" البكر تستاذن، قلت: إن البكر تستحيي، قال: إذنها صماتها"، وقال بعض الناس: إن هوي رجل جارية يتيمة او بكرا، فابت فاحتال، فجاء بشاهدي زور على انه تزوجها، فادركت، فرضيت اليتيمة، فقبل القاضي شهادة الزور، والزوج يعلم ببطلان ذلك، حل له الوطء.

ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ذکوان نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی۔ میں نے پوچھا کہ کنواری لڑکی شرمائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔ اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی شخص اگر کسی یتیم لڑکی یا کنواری لڑکی سے نکاح کا خواہشمند ہو۔ لیکن لڑکی راضی نہ ہو اس پر اس نے حیلہ کیا اور دو جھوٹے گواہوں کی گواہی اس کی دلائی کہ اس نے لڑکی سے شادی کر لی ہے پھر جب وہ لڑکی جوان ہوئی اور اس نکاح سے وہ بھی راضی ہو گئی اور قاضی نے اس جھوٹی شہادت کو قبول کر لیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ سارا ہی جھوٹ اور فریب ہے تب بھی اس سے جماع کرنا جائز ہے۔

صحيح البخاري # 6971
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp