وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا ما رب النعم لم يعط حقها، تسلط عليه يوم القيامة، فتخبط وجهه باخفافها"، وقال بعض الناس: في رجل له إبل، فخاف ان تجب عليه الصدقة، فباعها بإبل مثلها، او بغنم، او ببقر، او بدراهم، فرارا من الصدقة بيوم احتيالا، فلا باس عليه، وهو يقول: إن زكى إبله قبل ان يحول الحول بيوم او بستة، جازت عنه.
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جانوروں کے مالک جنہوں نے ان کا شرعی حق ادا نہیں کیا ہو گا قیامت کے دن ان پر وہ جانور غالب کر دئیے جائیں گے اور وہ اپنی کھروں سے اس کے چہرے کو نوچیں گے۔ اور بعض لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ اگر ایک شخص کے پاس اونٹ ہیں اور اسے خطرہ ہے کہ زکوٰۃ اس پر واجب ہو جائے گی اور اس لیے وہ کسی دن زکوٰۃ سے بچنے کے لیے حیلہ کے طور پر اسی جیسے اونٹ یا بکری یا گائے یا دراہم کے بدلے میں بیچ دے تو اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں اور پھر اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وہ اپنے اونٹ کی زکوٰۃ سال پورے ہونے سے ایک دن یا ایک سال پہلے دیدے تو زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔