كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ کتاب: اوقات نماز کے بیان میں

حدثنا يحيى بن بكير، قال: حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عائشة اخبرته، قالت:" اعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة بالعشاء، وذلك قبل ان يفشو الإسلام، فلم يخرج، حتى قال عمر: نام النساء والصبيان فخرج، فقال لاهل المسجد: ما ينتظرها احد من اهل الارض غيركم".

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھی۔ یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک باہر تشریف نہیں لائے جب تک عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔

صحيح البخاري # 566
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp