كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ کتاب: اوقات نماز کے بیان میں

حدثنا ابو نعيم، قال: اخبرنا ابن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، قالت:" كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة العصر والشمس طالعة في حجرتي لم يظهر الفيء بعد"، وقال مالك: ويحيى بن سعيد، وشعيب، وابن ابي حفصة، والشمس قبل ان تظهر.

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج ابھی میرے حجرے میں جھانکتا رہتا تھا۔ ابھی سایہ نہ پھیلا ہوتا تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ امام مالک اور یحییٰ بن سعید، شعیب رحمہم اللہ اور ابن ابی حفصہ کے روایتوں میں (زہری سے) «والشمس قبل أن تظهر‏» کے الفاظ ہیں، (جن کا مطلب یہ ہے کہ دھوپ ابھی اوپر نہ چڑھی ہوتی)۔

صحيح البخاري # 546
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp