واشتكت النار إلى ربها، فقالت: يا رب اكل بعضي بعضا، فاذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف، فهو اشد ما تجدون من الحر، واشد ما تجدون من الزمهرير".
دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب! (آگ کی شدت کی وجہ سے) میرے بعض حصہ نے بعض حصہ کو کھا لیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔ اب انتہائی سخت گرمی اور سخت سردی جو تم لوگ محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے۔