حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، وابي سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة رضي الله عنه، قال:" اقتتلت امراتان من هذيل، فرمت إحداهما الاخرى بحجر، فقتلتها وما في بطنها، فاختصموا إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقضى ان دية جنينها غرة عبد او وليدة وقضى ان دية المراة على عاقلتها".
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے (جنین) سمیت مر گئی۔ پھر (مقتولہ کے رشتہ دار) مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہو گی اور عورت کے خون بہا کو قاتل عورت کے عاقلہ (عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ) کے ذمہ واجب قرار دیا۔