حدثنا إسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عائشة، قالت:" جاء ابو بكر رضي الله عنه، ورسول الله صلى الله عليه وسلم واضع راسه على فخذي، فقال:" حبست رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس وليسوا على ماء، فعاتبني وجعل يطعن بيده في خاصرتي، ولا يمنعني من التحرك، إلا مكان رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانزل الله آية التيمم".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (قاسم بن محمد) نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تمہاری وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سب لوگوں کو رکنا پڑا جبکہ یہاں پانی بھی نہیں ہے۔ چنانچہ وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں مکا مارنے لگے مگر میں نے اپنے جسم میں کسی قسم کی حرکت اس لیے نہیں ہونے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی۔