كتاب المحاربين کتاب: ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں

حدثنا إسماعيل بن عبد الله، حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، انه قال:" إن اليهود جاءوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكروا له ان رجلا منهم وامراة زنيا، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما تجدون في التوراة في شان الرجم؟ فقالوا: نفضحهم ويجلدون، قال عبد الله بن سلام: كذبتم، إن فيها الرجم، فاتوا بالتوراة فنشروها، فوضع احدهم يده على آية الرجم، فقرا ما قبلها وما بعدها، فقال له عبد الله بن سلام: ارفع يدك فرفع يده فإذا فيها آية الرجم، قالوا: صدق يا محمد، فيها آية الرجم، فامر بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرجما". فرايت الرجل يحني على، المراة يقيها الحجارة.

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زناکاری کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں رسوا کرتے ہیں اور کوڑے لگاتے ہیں۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ تم جھوٹے ہو اس میں رجم کا حکم موجود ہے۔ چنانچہ وہ تورات لائے اور کھولا۔ لیکن ان کے ایک شخص نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد کا حصہ پڑھ دیا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے رجم کی آیت موجود تھی۔ پھر انہوں نے کہا: اے محمد! آپ نے سچ فرمایا کہ اس میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور دونوں رجم کئے گئے۔ میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھروں سے بچانے کی کوشش میں اس پر جھکا رہا تھا۔

صحيح البخاري # 6841
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp