حدثنا مكي بن إبراهيم، عن الجعيد، عن يزيد بن خصيفة، عن السائب بن يزيد، قال:" كنا نؤتى بالشارب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وإمرة ابي بكر، وصدرا من خلافة عمر، فنقوم إليه بايدينا، ونعالنا، وارديتنا حتى كان آخر إمرة عمر، فجلد اربعين حتى إذا عتوا وفسقوا جلد ثمانين".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جعید نے، ان سے یزید بن خصیفہ نے، ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں شراب پینے والا ہمارے پاس لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھ، جوتے اور چادریں لے کر کھڑے ہو جاتے (اور اسے مارتے) آخر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری دور خلافت میں شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے مارے اور جب ان لوگوں نے مزید سرکشی کی اور فسق و فجور کیا تو (80) اسی کوڑے مارے۔