حدثنا قتيبة، حدثنا ابو ضمرة انس، عن يزيد بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضي الله عنه" اتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل قد شرب، قال: اضربوه، قال ابو هريرة: فمنا الضارب بيده، والضارب بنعله، والضارب بثوبه، فلما انصرف، قال بعض القوم: اخزاك الله، قال: لا تقولوا هكذا، لا تعينوا عليه الشيطان".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے انس نے بیان کیا، ان سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو شراب پیے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے اسے ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو کسی نے کہا کہ اللہ تجھے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کے جملے نہ کہو، اس کے معاملہ میں شیطان کی مدد نہ کر۔