حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن إبراهيم، عن الاسود" ان عائشة رضي الله عنها، اشترت بريرة لتعتقها، واشترط اهلها ولاءها، فقالت: يا رسول الله، إني اشتريت بريرة لاعتقها، وإن اهلها يشترطون ولاءها، فقال: اعتقيها فإنما الولاء لمن اعتق، او قال اعطى الثمن، قال: فاشترتها فاعتقتها، قال وخيرت، فاختارت نفسها، وقالت: لو اعطيت كذا وكذا ما كنت معه"، قال الاسود: وكان زوجها حرا". قول الاسود: منقطع، وقول ابن عباس: رايته عبدا: اصح.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن ان کے نائکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دے، ولاء تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا (کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔