كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ کتاب: قسموں کے کفارہ کے بیان میں

حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن هشام بن حجير، عن طاوس، سمع ابا هريرة، قال:" قال سليمان: لاطوفن الليلة على تسعين امراة كل تلد غلاما يقاتل في سبيل الله، فقال له صاحبه: قال سفيان: يعني الملك: قل: إن شاء الله، فنسي، فطاف بهن، فلم تات امراة منهن بولد إلا واحدة بشق غلام"، فقال ابو هريرة: يرويه، قال: لو قال:" إن شاء الله لم يحنث، وكان دركا له في حاجته"، وقال مرة: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لو استثنى"، وحدثنا ابو الزناد، عن الاعرج مثل حديث ابي هريرة.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حجیر نے، ان سے طاؤس نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ سلیمان علیہ السلام نے کہا تھا کہ آج رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک بچہ جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔ ان کے ساتھی سفیان یعنی فرشتے نے ان سے کہا۔ اجی ان شاءاللہ تو کہو لیکن آپ بھول گئے اور پھر تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک بیوی کے سوا جس کے یہاں ناتمام بچہ ہوا تھا کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ نہیں ہوا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ان کی قسم بےکار نہ جاتی اور اپنی ضرورت کو پا لیتے اور ایک مرتبہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر انہوں نے استثناء کر دیا ہوتا۔ اور ہم سے ابوالزناد نے اعرج سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔

صحيح البخاري # 6720
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp