فدخل الاشعث بن قيس، فقال: ما حدثكم ابو عبد الرحمن، فقالوا: كذا وكذا، قال: في انزلت، كانت لي بئر في ارض ابن عم لي، فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال:" بينتك او يمينه"، قلت: إذا يحلف عليها يا رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من حلف على يمين صبر وهو فيها فاجر، يقتطع بها مال امرئ مسلم، لقي الله يوم القيامة وهو عليه غضبان".
عبداللہ یہ حدیث بیان کر چکے تھے، اتنے میں اشعث بن قیس آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن نے تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ لوگوں نے کہا اس اس مضمون کی۔ انہوں نے کہا اجی یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میرے ایک چچازاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اس کے جھگڑے کے سلسلہ میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر وہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جھوٹی قسم بدنیتی کے ساتھ اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اللہ اس پر انتہائی غضب ناک ہو گا۔