حدثنا محمد، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، عن البراء بن عازب، قال: اهدي إلى النبي صلى الله عليه وسلم سرقة من حرير، فجعل الناس يتداولونها بينهم، ويعجبون من حسنها ولينها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اتعجبون منها؟"، قالوا: نعم يا رسول الله، قال:" والذي نفسي بيده، لمناديل سعد في الجنة، خير منها"، لم يقل شعبة، وإسرائيل: عن ابي إسحاق: والذي نفسي بيده.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اس کی خوبصورتی اور نرمی پر حیرت کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت ہے؟ صحابہ نے عرض کی جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں۔ شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق سے الفاظ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“ کا ذکر نہیں کیا۔