حدثنا يحيى بن سليمان، قال: حدثني ابن وهب، قال: اخبرني حيوة، قال: حدثني ابو عقيل زهرة بن معبد، انه سمع جده عبد الله بن هشام، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم، وهو آخذ بيد عمر بن الخطاب، فقال له عمر: يا رسول الله، لانت احب إلي من كل شيء إلا من نفسي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" لا والذي نفسي بيده، حتى اكون احب إليك من نفسك"، فقال له عمر: فإنه الآن والله لانت احب إلي من نفسي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" الآن يا عمر".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حیوہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوا میری اپنی جان کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ (ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا) جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر واللہ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، عمر! اب تیرا ایمان پورا ہوا۔