حدثنا علي بن حفص، وبشر بن محمد، قالا: اخبرنا عبد الله اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لابن صياد:" خبات لك خبيئا"، قال: الدخ؟ قال:" اخسا، فلن تعدو قدرك"، قال عمر: ائذن لي فاضرب عنقه، قال:" دعه إن يكن هو فلا تطيقه، وإن لم يكن هو فلا خير لك في قتله".
ہم سے علی بن حفص اور بشر بن محمد نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے ایک بات دل میں چھپا رکھی ہے (بتا وہ کیا ہے؟) اس نے کہا کہ ”دھواں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدبخت! اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی (دجال) ہوا تو تم اس پر قابو نہیں پا سکتے اور اگر یہ وہ نہ ہوا تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔