حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا محمد بن فليح، حدثنا ابي، قال: حدثني هلال بن علي، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" بينا انا قائم إذا زمرة حتى إذا عرفتهم خرج رجل من بيني وبينهم، فقال: هلم، فقلت: اين؟ قال: إلى النار، والله قلت: وما شانهم؟ قال: إنهم ارتدوا بعدك على ادبارهم القهقرى، ثم إذا زمرة حتى إذا عرفتهم خرج رجل من بيني وبينهم، فقال: هلم، قلت: اين؟ قال: إلى النار، والله قلت: ما شانهم؟ قال: إنهم ارتدوا بعدك على ادبارهم القهقرى، فلا اراه يخلص منهم إلا مثل همل النعم".
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، کہا کہ مجھ سے ہلال نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں (حوض پر) کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی اور جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں کہوں گا کہ کدھر؟ وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں (دین سے) واپس لوٹ گئے تھے۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گا اور جب میں انہیں بھی پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان میں سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں پوچھوں گا کہ کہاں؟ تو وہ کہے گا، اللہ کی قسم! جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں؟ فرشتہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان گروہوں میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچے گا۔ ان سب کو دوزخ میں لے جائیں گے۔