كِتَاب الرِّقَاقِ کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

وقال احمد بن شبيب بن سعيد الحبطي: حدثنا ابي، عن يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، انه كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" يرد علي يوم القيامة رهط من اصحابي، فيحلئون عن الحوض، فاقول: يا رب، اصحابي، فيقول:" إنك لا علم لك بما احدثوا بعدك، إنهم ارتدوا على ادبارهم القهقرى".

احمد بن شبیب بن سعید حبطی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میرے صحابہ میں سے ایک جماعت مجھ پر پیش کی جائے گی۔ پھر وہ حوض سے دور کر دئیے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں گھڑ لی تھیں؟ یہ لوگ (دین سے) الٹے قدموں واپس لوٹ گئے تھے۔ (دوسری سند) شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے «فيجلون» (بجائے «فيحلؤون») کے بیان کرتے تھے۔ اور عقیل «فيحلؤون» بیان کرتے تھے اور زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے محمد بن علی نے، ان سے عبیداللہ بن ابی رافع نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

صحيح البخاري # 6585
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp