وحدثني عمرو بن علي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن المغيرة، قال: سمعت ابا وائل، عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" انا فرطكم على الحوض وليرفعن معي رجال منكم، ثم ليختلجن دوني، فاقول يا رب: اصحابي، فيقال: إنك لا تدري ما احدثوا بعدك"، تابعه عاصم، عن ابي وائل، وقال حصين، عن ابي وائل، عن حذيفة، عن النبي صلى الله عليه وسلم.
(دوسری سند) اور مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ نے، کہا کہ میں نے ابووائل سے سنا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ اس روایت کی متابعت عاصم نے ابووائل سے کی، ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔